World
ہارورڈ میڈیکل اسکول کیس: باڈی پارٹس اسکینڈل میں 53 ملین ڈالر کا تصفیہ
ہارورڈ میڈیکل اسکول نے اپنے مردہ خانے کے سابق مینیجر کے ہاتھوں عطیہ کردہ لاشوں کے اعضاء کی غیر قانونی فروخت کے اسکینڈل پر متاثرہ خاندانوں کو 53 ملین ڈالر ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تصفیہ ان طویل قانونی مقدمات کے بعد ہوا ہے جو متوفین کے لواحقین نے ادارے کی سنگین غفلت اور بے حرمتی کے خلاف دائر کیے تھے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول نے ان خاندانوں کے ساتھ 53 ملین ڈالر کی ادائیگی پر اتفاق کر لیا ہے جن کے پیاروں کے عطیہ کردہ جسدِ خاکی کی اسکول کے مردہ خانے میں بے حرمتی کی گئی تھی۔ اس اہم قانونی پیش رفت کے ساتھ ہی طبی اور سائنسی تحقیق کے لیے لاشیں عطیہ کرنے والے خاندانوں کی جانب سے ہارورڈ انتظامیہ کے خلاف جاری ایک طویل، دردناک اور پیچیدہ قانونی معرکہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر طبی اداروں اور یونیورسٹیوں میں باڈی ڈونیشن پروگراموں کی شفافیت پر شدید سوالات اٹھا دیے تھے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب یہ انکشاف ہوا کہ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مردہ خانے کے سابق مینیجر نے سائنسی و طبی تحققی مقاصد کے لیے موصول ہونے والی لاشوں کے اعضاء اور مختلف حصوں کو چوری کر کے ایک غیر قانونی بلیک مارکیٹ کے ذریعے فروخت کیا تھا۔ اس المناک انکشاف کے بعد متوفین کے لواحقین کو گہرا صدمہ پہنچا اور انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کی انتظامیہ پر سخت غفلت، نگرانی کی کمی اور میتوں کی بے حرمتی کے الزامات عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس سے ادارے کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کے حکام نے تصفیے کے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ تمام خاندانوں سے ایک بار پھر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ اسکول کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان تمام خاندانوں کی شدید ذہنی اذیت اور صدمے سے آگاہ ہیں اور تصفیے کی رقم کا مقصد متاثرین کی داد رسی اور کسی حد تک ان کے نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔ تصفیے کے تحت یہ رقم ان تمام خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی جن کے عزیروں کی لاشوں کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا تھا۔
اس اندوہناک اور سنگین اسکینڈل کے بعد ہارورڈ انتظامیہ نے اپنے ایناٹومی باڈی ڈونیشن پروگرام کا ازسرنو جائزہ لیا ہے اور مردہ خانے کی سیکیورٹی، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے کڑے اور جدید ترین پروٹوکولز نافذ کیے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ایسے خودمختار اور سخت سیکیورٹی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ دوبارہ پیش نہ آ سکے۔ تاہم قانونی اور سائنسی ماہرین کے مطابق اس واقعے سے سائنسی تحقیق کے لیے باڈی ڈونیٹ کرنے کے عوامی رجحان کو بحال کرنے میں کافی وقت لگے گا۔