LIVE
Loading Breaking News...

دیویندر ناتھ مہتو نے بھوک ہڑتال ختم کردی، جھارکھنڈ میں امتحانات منسوخ

News Image
جھارکھنڈ میں طلباء رہنما دیویندر ناتھ مہتو نے سولہ روز طویل بھوک ہڑتال حکومت کی جانب سے متنازع امتحانات منسوخ کرنے کے بعد ختم کردی ہے۔ انہوں نے اس حکومتی فیصلے کو جھارکھنڈ کے طلباء کے لیے ایک تاریخی اور بڑی فتح قرار دیا ہے۔
جھارکھنڈ میں طلباء کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معروف رہنما دیویندر ناتھ مہتو نے اپنی سولہ روزہ طویل بھوک ہڑتال باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے جے ایس ایس سی سی جی ایل اور تمام ٹی ڈی پی ایل کے امتحانات منسوخ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ دیویندر ناتھ مہتو نے اپنی اس بھوک ہڑتال کے دوران طلباء کے مستقبل کے تحفظ کے لیے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا تھا اور ان کی طبیعت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا، تاہم امتحانات کی منسوخی کے حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد انہوں نے ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کی جانب سے یہ اہم قدم ایک طویل احتجاجی تحریک کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امتحانات کے نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ناانصافیوں کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا تھا، جس کے خلاف دیویندر ناتھ مہتو نے فرنٹ لائن پر رہ کر احتجاج کی قیادت کی۔ سولہ دن تک مسلسل بھوک ہڑتال پر رہنے کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور بالآخر انتظامیہ کو طلباء کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جسے سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امتحانات منسوخ کیے جانے کے اعلان کے بعد راچی اور دیگر علاقوں میں طلباء نے جشن منایا اور دیویندر ناتھ مہتو کی اس قربانی کو سراہا۔ رہنماؤں اور طلباء کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نوجوانوں کے اتحاد اور پرامن جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت نے اس موقع پر طلباء کے مطالبات کو سنجیدگی سے سننے اور مستقبل میں شفاف امتحانات کے انعقاد کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے تاکہ اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔