Health
بچپن میں کم چینی کا استعمال اور دماغی صحت - اہم طبی تحقیق
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زندگی کے ابتدائی سالوں میں چینی کا کم استعمال طویل مدت تک دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرینِ صحت نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ زندگی کے پہلے دو سالوں کے دوران بچوں کی خوراک میں چینی کا کم استعمال ان کی طویل مدتی دماغی صحت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ ابتدائی عمر میں میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنے سے بچوں کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور وہ مستقبل میں مختلف دماغی امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ تحقیق بچپن کی غذائی عادات اور ذہنی کارکردگی کے مابین تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق، پیدائش سے لے کر بائیس ماہ کی عمر تک کے عرصے میں بچوں کو چینی کی زیادہ مقدار دینے سے ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیتوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر اس نازک دورانیے میں صحت مند اور متوازن غذا کا استعمال کیا جائے تو دماغی خلیات کی نشوونما بہترین طریقے سے ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمر میں بچوں کے ذائقے کی حس پروان چڑھ رہی ہوتی ہے، اس لیے اگر انہیں کم چینی والی غذائیں دی جائیں تو وہ بڑی عمر میں بھی صحت مند غذائی انتخاب کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
تاہم، محققین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس تعلق کے حوالے سے تاحال شواہد حتمی نہیں ہیں اور اس پر مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔ غذائی ماہرین والدین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک میں چینی کی مقدار کو اعتدال میں رکھیں اور بازاری میٹھی چیزوں کے بجائے قدرتی پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دیں۔ یہ چھوٹی سی احتیاط بچوں کے مستقبل کو روشن اور صحت مند بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔