World
تنگہ ہرمز کشیدگی: خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی تحفظات
تنگہ ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں اور سخت گیر پالیسی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی فوج کی حکمت عملی اور صبر کا امتحان لینے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تنگہ ہرمز کی حکمت عملی سے اہم شاہراہ پر تجارتی بحری جہازوں پر ایران کے بڑھتے ہوئے اقدامات اور حملوں نے خطے میں عسکری و معاشی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ان تازہ ترین واقعات کے بعد امریکہ کی عسکری حکمت عملی اور ضبط و تحمل کا شدید امتحان لیا جا رہا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے متعدد آئل ٹینکرز نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں جبکہ کئی جہازوں نے تنگہ ہرمز میں داخل ہونے کے بجائے یو ٹرن لے کر واپسی کا راستہ اختیار کیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی نقل و حمل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی تیل کی منڈی میں اس کشیدگی کے براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، کیونکہ بازار میں تیل کی ترسیل منقطع ہونے کے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ چین کی جانب سے تیل کی طلب میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، تاہم سعودی عرب کی طرف سے تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں کے استعمال اور تنگہ ہرمز میں جاری تنازع نے اس کمی کے اثرات کو زائل کرتے ہوئے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ معاشی ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق تنگہ ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس نقطہ ہے۔ اس راستے سے دنیا کی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی طویل المدتی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کر سکتی ہے۔ خام تیل کے ساتھ ساتھ سونا، تانبا اور دیگر اجناس کی منڈیوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی مالیاتی منڈیاں شدید غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہو چکی ہیں۔ امریکی عسکری حکام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بڑے براہ راست عسکری تصادم سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے بحری جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکی افواج کے لیے زیادہ دیر تک عسکری ضبط برقرار رکھنا دشوار ہو جائے گا۔ عالمی برادری اور توانائی کی منڈیوں کی نظریں اب اس بات پر جمی ہیں کہ آیا سفارتی کوششوں سے اس بحران کا حل نکلتا ہے یا خطہ ایک نئے تنازع کی لپیٹ میں آ جائے گا۔