World
امریکی سفیر کا مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد پر بڑا بیان
امریکہ کے سفیر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے ہونے والے تشدد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے۔ اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ کے سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکا بی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد واقعات کو واضح طور پر دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور بین الاقوامی سطح پر مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن کی طرف سے اس طرح کے سخت الفاظ کا استعمال ماضی میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں طویل عرصے سے فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اس طرح کے پرتشدد واقعات کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے زبردستی بے دخل کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ سفیر کے اس حالیہ بیان سے امید کی جا رہی ہے کہ اس سے مقامی سطح پر ہونے والے ان غیر قانونی اقدامات کی روک تھام میں کچھ مدد ملے گی اور عالمی برادری کو اس مسئلے پر مزید سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع ملے گا۔
اسرائیلی حکومت کے اندرونی حلقوں اور دائیں بازو کے سیاستدانوں کی طرف سے اس بیان پر مختلف قسم کے ردعمل کا اظہار کیے جانے کا امکان ہے۔ روایتی طور پر اسرائیل میں آباد کاروں کے حامی عناصر اس نوعیت کے بیانات کی مخالفت کرتے آئے ہیں جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے دو ریاستی حل اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بیان کے سفارتی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ آیا اس کی روشنی میں عملی اقدامات بھی اٹھائے جاتے ہیں یا نہیں۔