World
انڈونیشیا زلزلہ: جزیرہ فلورس میں تباہی کے بعد امدادی کاموں میں تیزی
انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے۔ ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ بحالی کے کاموں میں مصروف ہے۔
انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں آنے والے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 7.7 شدت کے اس زلزلے نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم 70 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں سینکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ پینے کے صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت نے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور طبی عملے کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ متاثرہ افراد کی جانب سے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ متاثرین تک امدادی سامان جلد از جلد پہنچایا جا سکے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور بین الاقوامی برادری سے بھی تعاون کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگرچہ آفٹر شاکس کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں کسی بھی قسم کے خطرات کی پرواہ کیے بغیر امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔ موسمی حالات اور خراب سڑکوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، لیکن حکام پرعزم ہیں کہ جلد ہی صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔
اس قدرتی آفت نے ایک بار پھر انڈونیشیا کی جغرافیائی حساسیت کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشاں پہاڑوں کی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں۔ فی الحال مقامی انتظامیہ اور رضا کار تنظیمیں مل کر متاثرین کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر فلاحی اداروں نے بھی انڈونیشیا کو ہنگامی امداد کی پیشکش کی ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد پہنچائی جا سکے اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکا جا سکے۔