Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، آبِ ہرمز کی صورتحال پر تشویش
آبِ ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں اور کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور سیاسی بیانات نے سرمایہ کاروں میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ آبِ ہرمز کے راستے توانائی کی برآمدات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ پیدا ہونے والے تناؤ نے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر خدشات بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے جو مارکیٹ کے غیر مستحکم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب، آبِ ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کئی آئل ٹینکرز نے اپنی سمت تبدیل کر لی ہے اور متبادل راستے اختیار کرنے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سمندری گزرگاہ پر مزید سختی کی گئی یا حالات خراب ہوئے تو عالمی منڈی میں تیل کی رس رسد شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات براہ راست دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑیں گے۔ سعودی عرب اور دیگر پیداوار کرنے والے ممالک کی جانب سے متبادل انتظامات کے باوجود، خطے کے حالات نے خریداروں اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔
علاوہ ازیں، چین میں طلب کمزور رہنے کے باوجود مشرق وسطیٰ کے سیاسی بحران اور دھمکیوں نے تیل کی قیمتوں کو سہارا فراہم کیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ نوے ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار مکمل طور پر آبِ ہرمز کی سکیورٹی اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر ہوگا، کیونکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے سپلائی چین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔