LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ جولائی میں 107.92 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

News Image
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں پاکستان کا ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (REER) 107.92 تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جولائی میں ملکی برآمدات میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے مہینے میں پاکستان کا حقیقی مؤثر تبادلہ شرح (REER) بڑھ کر 107.92 کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ اوسط سے کہیں زیادہ ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں کی بلند ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق رئیل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں روپے کی قدر اور شرح مبادلہ میں آنے والے استحکام کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کا ملکی برآمدات پر ملا جلا اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب معاشی محاذ پر ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق جولائی کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 32 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں مجموعی برآمدات 2.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک مثبت اشاریہ ہے۔ معاشی تجزئیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اس قدر اضافے سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کے باوجود جولائی میں پاکستان کو 328 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ واردات میں اضافہ اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر برآمدات میں اضافے کا یہ تسلسل برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مجموعی طور پر جولائی کا مہینہ پاکستان کی معیشت کے لیے ملا جلا ثابت ہوا ہے۔ ایک طرف جہاں REER کا آٹھ سالہ بلند ترین سطح پر پہنچنا اور برآمدات میں 32 فیصد کا اضافہ معاشی بحالی کا اشارہ دے رہا ہے، وہیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانا حکومت اور مالیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک اور مالیاتی حکام ملک میں پائیدار معاشی نمو کے لیے ایکسچینج ریٹ اور تجارتی پالیسیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔