LIVE
Loading Breaking News...

تیا اگروال نے پودوں کی دیکھ بھال کے لیے اسمارٹ آبپاشی کا نظام بنا لیا

News Image
کینیڈا کی طالبہ تیا اگروال نے برٹش کولمبیا کے ایک کاروباری مقابلے میں 'ایکواورا 150' نامی اسمارٹ آبپاشی کے نظام پر سب سے بڑا انعام جیت لیا ہے۔ یہ جدید نظام نمی کو جذب کرنے کی صلاحیت کے ذریعے ڈیڑھ سو سے زائد پودوں کی اقسام کی خودکار دیکھ بھال کرتا ہے۔
برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والی سترہ سالہ کینیڈین ہائی اسکول کی طالبہ تیا اگروال نے ایک منفرد اور کارآمد ایجاد کے ذریعے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔ انہوں نے 'ایکواورا 150' (Aquora150) نامی ایک ایسا اسمارٹ آبپاشی کا نظام تیار کیا ہے جو ڈیڑھ سو سے زائد پودوں کی اقسام کے لیے خودکار طریقے سے دیکھ بھال اور پانی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس شاندار ایجاد پر تیا اگروال کو برٹش کولمبیا کے ایک اہم کاروباری مقابلے میں پہلا انعام دیا گیا ہے۔ اس جدید نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ماحول سے نمی کو جذب کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے اور ہر پودے کی مخصوص ضرورت کے مطابق پانی کی مقدار کا خود تعین کرتا ہے۔ اس طرح پودوں کو نہ صرف ضرورت کے مطابق پانی ملتا ہے بلکہ پانی کے ضیاع کو بھی کامیابی سے روکا جا سکتا ہے۔ تیا اگروال نے اس پروجیکٹ کو طویل محنت اور سائنسی بنیادوں پر تیار کیا ہے تاکہ جدید دور میں باغبانی اور زراعت کو مزید آسان بنایا جا سکے۔ مقابلے کے ججز نے تیا کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ماحولیاتی اور زرعی شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں پانی کی بچت سب سے بڑا چیلنج ہے، یہ ایجاد اس کا ایک بہترین اور عملی حل پیش کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس نظام کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے تو گھریلو باغبانی سے لے کر تجارتی پیمانے تک اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ تیا اگروال کی اس کامیابی نے کینیڈا بھر کے نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ کم عمر میں بھی بڑی ٹیکنالوجی کی حامل ایجادات کی جا سکتی ہیں۔ ان کا یہ پروجیکٹ اس بات کا عکاس ہے کہ نوجوان نسل جدید مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال جانتی ہے۔ مستقبل میں اس نظام کو مزید بہتر بنانے اور تجارتی بنیادوں پر متعارف کرانے کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔