Business
نفٹی میں مسلسل پانچویں روز مندی، خام تیل اور ایران کشیدگی سے دلال اسٹریٹ پر اثرات
عالمگیر منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تشویشناک اضافے اور امریکہ و ایران کے درمیان تناؤ کے باعث بھارتی شیئر مارکیٹ نفٹی میں مسلسل پانچویں روز بھی مندی کا رجحان برقرار رہا۔ اس صورتحال نے دلال اسٹریٹ میں سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں منفی زون میں داخل ہو گئی ہیں۔
منگل کے روز بھارتی شیئر مارکیٹ کے اہم انڈیکس نفٹی میں مسلسل پانچویں سیشن میں بھی مندی کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں دلال اسٹریٹ پر سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ مارکیٹ کھلتے ہی ریڈ زون میں داخل ہو گئی اور پورے کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا شدید دباؤ واضح طور پر دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق عالمگیر سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے مارکیٹ کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس تازہ ترین مندی کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کی امیدوں کو پہنچنے والا دھچکا ہے۔ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کا براہ راست اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں بالخصوص بھارت پر پڑ رہا ہے جو اپنی ضرورت کا بڑا حصہ خام تیل درامد کرتا ہے۔ دلال اسٹریٹ میں مسلسل پانچ روز کی اس مندی کے باعث مختلف شعبوں بشمول بینکنگ، آٹو، اور آئی ٹی کے شیئرز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ اثاثوں کی جانب رخ کر رہے ہیں جس سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا حجم مزید کم ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک خام تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، تب تک شیئر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ مالیاتی ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں محتاط رہیں اور جلد بازی میں بڑے فیصلوں سے گریز کریں۔ خام تیل کی بلند قیمتیں نہ صرف بھارتی روپے پر دباؤ بڑھا رہی ہیں بلکہ ملک میں افراط زر کے خطرات کو بھی جنم دے رہی ہیں، جس سے مرکزی بینک کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔