LIVE
Loading Breaking News...

یو اے ای کی ایران پر تجارتی پابندی، میزائل حملوں کا الزام

News Image
متحدہ عرب امارات نے ایران سے مبینہ میزائل حملوں کے تناظر میں تمام تجارتی اور مالیاتی سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خلیجی شپنگ پر میزائل حملے کے یو اے ای کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ایران کی طرف سے مبینہ میزائل حملوں اور خلیجی شپنگ کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد تہران کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے مکمل تجارتی اور مالیاتی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صورتحال میں بہتری نہیں آتی اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کا ازالہ نہیں ہو جاتا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پابندی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تمام دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالیاتی تعاون معطل ہو چکا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے عائد کردہ ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یو اے ای کے یہ دعوے کہ خلیجی پانیوں میں جہاز رانی پر حملہ کرنے والے میزائل ایران سے فائر کیے گئے تھے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور اس کا ان میزائل حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایران نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے الزامات خطے کے ماحول کو مزید خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہو سکتے ہیں جن کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی برادری اور بالخصوص خطے کے دیگر ممالک میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ چین اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں تجارتی گزرگاہوں اور شپنگ کی سیکیورٹی دنیا بھر کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس قسم کے تنازعات سے عالمی رسل و رسائل اور توانائی کی سپلائی لائنز متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تجارتی پابندی کے اثرات خطے کی معیشت اور سفارتی تعلقات پر کس طرح مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے سفارتی ذرائع سے بات چیت کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ کشیدگی مشرق وسطیٰ کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی ادارے بھی دونوں ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے تحفظات دور کریں تاکہ خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچایا جا سکے کیونکہ یو اے ای کی جانب سے اس نوعیت کا سخت ترین اقدام خطی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔