LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا میں سیاسی بحران اور ڈرون حملے، سلامتی کونسل میں اہم غور

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں لیبیا میں جاری سیاسی تعطل اور بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کونسل کے اراکین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پرامن مذاکرات کی طرف لوٹیں اور تنازعے کا سیاسی حل نکالیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں لیبیا کی مجموعی صورتحال بالخصوص ملک میں جاری سیاسی تعطل اور حالیہ ڈرون حملوں کے حوالے سے انتہائی اہم اور تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں اور کونسل کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ لیبیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو فوری طور پر باضابطہ اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ ملک کو مزید تباہی اور انارکی سے بچایا جا سکے۔ اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ لیبیا کے مختلف حصوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والے ڈرون حملوں نے نہ صرف سکیورٹی کی صورتحال کو خراب کیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس طرح کے پرتشدد اقدامات ملک میں جاری سیاسی مصالحتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں، جس کی بین الاقوامی سطح پر پُرزور مذمت کی جا رہی ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے تمام ملوث فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر محاذ آرائی کا سلسلہ بند کریں۔ لیبیا میں طویل عرصے سے چلا آرہا سیاسی تعطل اور اقتدار کی کشمکش نے ملک کے ریاستی اداروں کو کمزور کر دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام عوام کی روزمرہ زندگی اور معیشت پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے واضح کیا کہ بیرونی مداخلت اور مسلح کارروائیاں اس بحران کا کوئی حل نہیں ہیں، بلکہ لیبیا کے عوام کے حقوق اور خواہشات کے مطابق ایک جامع سیاسی معاہدہ ہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہے۔ اختتامی سیشن میں سلامتی کونسل کے ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ لیبیا کی خودمختاری، ارضی سالمیت اور اتحاد کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ عالمی برادری لیبیا میں امنگوں کے مطابق شفاف انتخابات کے انعقاد اور ایک مستحکم حکومت کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ مقامی سیاسی قیادت ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔