LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی اہلکار پر 200 خواتین کو نشہ دینے کا الزام | عالمی خبریں

News Image
فرانس کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کرسچیئن نیگرے پر 200 سے زائد خواتین کو دھوکے سے نشہ آور ادویات پلانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ متاثرہ خواتین میں سے دو نے میڈیا کے سامنے آکر اپنے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعات کی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔
فرانس میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور شرمناک اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے پورے ملک کی انتظامی اور عدالتی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ فرانس کے ایک سینئر سرکاری اہلکار کرسچیئن نیگرے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے 200 سے زائد خواتین کو دھوکے سے انتہائی تیز نشہ آور ادویات پلائیں۔ متاثرہ خواتین کے مطابق اس مذموم حرکت کا بنیادی مقصد انہیں جسمانی طور پر اس حد تک بے بس کرنا تھا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھیں اور ان کا اپنے مثانے پر سے کنٹرول ختم ہو جائے جس کے بعد وہ اپنے کپڑوں میں ہی پیشاب کرنے پر مجبور ہو جاتیں۔ اس اندوہناک اور عجیب و غریب واقعے کی تفتیش کے دوران متاثرہ خواتین میں سے دو خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے تلخ تجربات میڈیا کے سامنے بیان کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح مذکورہ سرکاری اہلکار ملازمت کے انٹرویوز، سرکاری ملاقاتوں یا پیشہ ورانہ میٹنگز کے بہانے خواتین کو بلاتا تھا اور انہیں چائے، کافی یا پانی میں انتہائی باریکی سے نشہ آور دوا ملا کر دے دیتا تھا۔ دوا کا اثر شروع ہوتے ہی خواتین شدید غنودگی اور جسمانی بے بسی کا شکار ہو جاتی تھیں اور ان کے لیے اپنے آپ پر قابو رکھنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اس تمام عمل کے دوران اہلکار ان کی بے بسی کا تماشا دیکھتا تھا جس کا مقصد ان کی تذلیل کرنا تھا۔ جب کئی خواتین نے ایک جیسی علامات اور واقعات کی شکایت کی تو پولیس نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ سلسلہ برسوں سے جاری تھا اور اس کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔ فرانسیسی قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے شدید ترین انسانی تذلیل قرار دیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق کرسچیئن نیگرے کے خلاف سخت ترین قانونی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے جبکہ فرانسیسی عوام اس گھناؤنے جرم پر شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور ملزم کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔