LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی کینیڈا پر ٹیرف میں تاخیر، امریکہ کینیڈا تجارتی معاہدہ قریب

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی مختلف مصنوعات پر نئی ڈیوٹیاں عائد کرنے کا فیصلہ تین دنوں کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے اور جاری بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والی مختلف مصنوعات اور سامان پر نئی تجارتی ڈیوٹیاں (ٹیرف) عائد کرنے کے عمل کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس فیصلے کا بنیادی مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت فراہم کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا تجارتی تنازعات اور معاشی مسائل حل ہونے کے قریب ہیں اور ایک جامع معاہدے کی فریم ورک تیار کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے کینیڈین مصنوعات پر بھاری ڈیوٹیاں عائد کرنے کا حکم فی الحال تین دنوں کے لیے روک دیا ہے تاکہ تجارتی ٹیمیں معاہدے کی تمام باریکیوں کو حتمی شکل دے سکیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران کینیڈین حکام اور امریکی نمائندوں کے درمیان انتہائی مثبت بات چیت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں تجارتی امور پر خاصی پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے۔ اس عارضی وقفے کے دوران دونوں فریقین ایک ایسے متفقہ فارمولے پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کی معیشت اور صنعتی شعبے کے لیے فائدے مند ثابت ہو سکے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف تجارتی امور، مصنوعات کی برآمدات و واردات اور اقتصادی پالیسیوں کے معاملے پر تناؤ پایا جا رہا تھا۔ امریکی صدر نے کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت ترین ٹیرف عائد کرنے کا انتباہ دیا تھا، جس سے مالیاتی منڈیوں میں تشویش پھیل گئی تھی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی ڈیوٹیوں کی معطلی کے حالیہ اعلان سے تجارتی حلقوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اس پیش رفت کو معاشی استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان اگلے تین دنوں کے اندر تجارتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے خطے کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی اور آزادانہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی۔ تاہم اگر ان تین دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان حتمی اتفاق رائے قائم نہ ہو سکا تو نئی ڈیوٹیوں کا بوجھ کینیڈا کی برآمدات پر پڑے گا، جس سے دوطرفہ معاشی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔