World
لبنان میں سابق شامی حکام کی موجودگی اور واپسی کے بڑھتے خطرات
شام میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد لبنان میں مقیم سابق اسد حکومت سے وابستہ اہم شخصیات کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ان افراد کی ممکنہ دباؤ اور دمشق واپسی کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ چکے ہیں۔
شام میں حالیہ بڑی سیاسی اور عسکری تبدیلیوں کے بعد ہمسایہ ملک لبنان اب سابق شامی حکومت کے عہدیداروں اور حامیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔ گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پیچیدہ روابط رہے ہیں، اور شام میں حکومت کے خاتمے کے بعد کئی اہم شخصیات نے سرحد عبور کر کے لبنان میں روپوشی اور پناہ اختیار کی تھی۔ تاہم، اب بیروت میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ان سابق عہدیداروں کے لیے اپنے وجود کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان میں موجود سابق شامی حکمران اتحاد کے ارکان، سیاسی شخصیات اور عسکری عہدیداروں کو اب گرفتاری اور شام واپس بھیجے جانے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ لبنانی حکام اور سیکیورٹی ادارے ملک کے اندرونی استحکام اور بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر ان افراد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بیروت حکومت اب سابقہ رژیم کے عناصر کو مزید تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، جس سے ان عہدیداروں کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لبنانی سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی شدت اختیار کر چکی ہے کہ ان افراد کو ملک سے نکال کر نئی شامی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے۔ لبنان پر بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سرحد پار سے آنے والے ان عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ اس تناظر میں آنے والے دنوں میں لبنانی حکام کی طرف سے مزید سخت اقدامات اور سابق عہدیداروں کی دمشق واپسی کی توقع کی جا رہی ہے، جو خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔