World
بالی کے جم میں اسرائیلی سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اور وائرل ویڈیو
انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی جزیرے بالی میں ایک جم کے مالک نے مبینہ طور پر اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) سے تعلق رکھنے والے تین اسرائیلی سیاحوں کو جم سے باہر نکال دیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے جس میں جم کے مالک کو اس اقدام کی وجوہات واضح کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی مقام بالی میں ایک دلچسپ اور اہم واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک مقامی جم کے مالک نے مبینہ طور پر اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) سے تعلق رکھنے والے تین سیاحوں کو اپنے جم سے باہر نکال دیا۔ یہ واقعہ اس وقت سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا جب جم کے مالک نے خود اس پورے واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی اور اس کی تفصیلات دنیا کے سامنے رکھیں۔ ویڈیو میں جم کے مالک کو صاف طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ان سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے سے کیوں انکار کیا۔ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے اور وہاں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے جذبات انتہائی پختہ اور گہرے ہیں۔ بالی کے اس جم کے مالک کا یہ قدم اسی عوامی جذبے کا عکاس بتایا جا رہا ہے، جس نے سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جم کے مالک نے کسی بھی قسم کے تشدد یا بدتمیزی کے بغیر اصولوں کی بنیاد پر ان سیاحوں کو جم چھوڑنے کا کہا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایسے افراد کو اپنے کاروباری ادارے میں خوش آمدید نہیں کہہ سکتے جو مبینہ طور پر کسی بھی ایسے فوجی ادارے کا حصہ رہے ہوں جو تنازعات میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں میں ملوث رہا ہو۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں ایک طرف دنیا بھر کے صارفین بالی کے جم کے مالک کے اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اس پر بین الاقوامی سطح پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ مقامی حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن انڈونیشیا میں اس قسم کے واقعات عوامی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔