World
امریکی ویزا قوانین میں تبدیلی: یونینز کی عدالت میں درخواست
امریکہ میں غیر ملکی طلباء اور صحافیوں کے لیے ویزا کی نئی مدت کے نفاذ کے خلاف مزدور یونینز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت طلباء اور ایکسچینج ویزا کی مدت چار سال جبکہ صحافیوں کا ویزا محدود کر کے دو سو چالیس دن کر دیا گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ میں غیر ملکی طلباء، زر مبادلہ کے پروگراموں کے تحت آنے والے افراد اور صحافیوں کے لیے متعارف کرائے گئے نئے اور سخت ویزا قوانین کے خلاف ملک کی اہم مزدور یونینز نے باضابطہ طور پر عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کے تحت امریکہ آنے والے غیر ملکی طلباء اور ایکسچینج ویزا ہولڈرز کے قیام کی مدت کو کم کر کے زیادہ سے زیادہ چار سال کر دیا گیا ہے، جس سے طویل المدتی کورسز کرنے والے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا سے وابستہ افراد اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے بھی حالات کو مزید مشکل بناتے ہوئے ان کے ویزا کی مدت کو سخت حد تک محدود کر کے صرف 240 دن کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک اور سخت حکومتی اقدام نے نہ صرف تعلیمی اداروں اور صحافتی حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ قانونی ماہرین نے بھی اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یونینز کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور دنیا بھر سے باصلاحیت طلباء اور پیشہ ور افراد کا امریکہ آنے کا رجحان کم ہو جائے گا۔ مقدمہ دائر کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے بنیادی انسانی حقوق اور تعلیمی آزادیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان غیر منصفانہ اور سخت قوانین کو فوری طور پر معطل کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد اور ان کے اداروں کو درپیش غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے۔ اس مقدمے کی سماعت آنے والے دنوں میں متوقع ہے جس پر پوری دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں۔