LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا کینیڈا پر ٹیرف کا فیصلہ معطل، نیا تجارتی معاہد طے

News Image
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان رات گئے ہونے والے ایک اہم معاہدے کے بعد کینیڈین برآمدات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں عارضی طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔
واشنگٹن اور اوٹاوا نے ایک اہم سفارتی اور تجارتی پیش رفت کے تحت کینیڈین برآمدات پر پچاس فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ٹیرف کے نفاذ کی آخری ڈیڈ لائن نصف شب کو ختم ہونے میں صرف چند گھنٹے باقی تھے۔ اس آخری لمحے کے معاہدے نے دونوں قریبی ہمسایہ ممالک کے مابین ممکنہ تجارتی جنگ کے بادلوں کو فی الحال چھٹا دیا ہے اور فریقین کو مذاکرات جاری رکھنے کا موقع مل گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے پر اتفاق دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی فشر فشر اور میراتھن بات چیت کے بعد ہوا۔ ڈونلڈ ٹیرف انتظامیہ نے کینیڈا سے آنے والی مختلف اشیاء پر بھاری ٹیکس لگانے کی دھمکی دی تھی جس پر کینیڈین حکومت کی جانب سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کی معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ گہرے پیمانے پر جڑی ہوئی ہیں، اور اس قسم کے سخت فیصلوں سے دونوں اطراف کے کاروباری طبقات کو شدید نقصان کا اندیشہ تھا۔ اس عارضی وقفے کے دوران دونوں ممالک کے نمائندے باہمی تجارت کے تنازعات، سرحدی سیکیورٹی اور دیگر معاشی امور پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معطلی دونوں حکومتوں کو ایک ایسا فریم ورک تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گی جو طویل مدتی تجارتی استحکام کا باعث بن سکے۔ اگرچہ یہ حتمی معاہدہ نہیں ہے، تاہم منڈیوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے فوری طور پر کسی بڑے معاشی بحران کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا واشنگٹن اور اوٹاوا اس عارضی مہلت کو کسی مستقل اور جامع تجارتی معاہدے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ دونوں اطراف کے سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم کاروباری برادری تاحال مکمل یقین دہانیوں کی منتظر ہے تاکہ وہ مستقبل کے تجارتی فیصلے اعتماد کے ساتھ کر سکیں۔