LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا کی خطرناک ترین وباء اور اس کی وجوہات

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وباء تاریخ کی بدترین وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مسلح تنازعات، تاخیر سے شناخت اور عوامی بداعتمادی اس مرض کو قابو کرنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وباء نے ملک کی تاریخ میں سب سے تباہ کن اور خطرناک روپ دھار لیا ہے۔ صحت کے عالمی اداروں اور مقامی انتظامیہ کو اس موذی مرض کے پھیلاؤ کو روٹنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں جاری طویل مسلح تنازعات نے امدادی ٹیموں کی رسائی کو انتہائی محدود کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بروقت طبی امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ اس وباء کے اس قدر شدت اختیار کرنے کی ایک بڑی وجہ بیماری کی بروقت شناخت میں تاخیر بھی ہے۔ بہت سے مریض آخری مراحل میں اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، تب تک وائرس ان کے خاندان اور قریبی رابطوں میں پھیل چکا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی آبادی میں طبی عملے اور حکومت کے خلاف پائے جانے والے عدم اعتماد اور افواہوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لوگ اسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں جو انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بین الاقوامی طبی تنظیمیں اور مقامی ادارے اس مشکل ترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں، لیکن حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کرانا کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایک کٹھن مرحلہ بن گیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ویکسینیشن مہم اور متاثرہ افراد کی تلاش کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک پرتشدد کارروائیاں بند نہیں ہوتیں اور عوام کا اعتماد بحال نہیں کیا جاتا، اس وباء پر مکمل قابو پانا تقریباً ناممکن رہے گا۔