LIVE
Loading Breaking News...

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سیاسی کشیدگی ختم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطے

News Image
ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پسِ پردہ رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے موجودہ ملکی صورتحال اور سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔
اسلام آباد: ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور مختلف امور پر پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کی غرض سے حکومتی اتحاد کی اہم اتحادی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن (ن لیگ) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنما موجودہ سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور باہمی افہم و تفہیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ سیاسی حلقوں میں ان رابطوں کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں دونوں جماعتوں کے مابین بعض پالیسی معاملات پر اختلافات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی تھی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ پسِ پردہ رابطوں کا بنیادی مقصد ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کو کم کرنا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک بہتر ماحول پیدا کرنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ملک اس وقت مزید سیاسی بحران یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے معاشی بہتری اور حکومتی امور کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ ان ملاقاتوں اور رابطوں میں پارلیمانی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اتحادی حکومت کے اندر کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی مشکل سیاسی حالات کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے کئی مواقع پر پسِ پردہ رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے بحرانوں پر قابو پایا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی عوامی فلاح و بہبود اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت کا یہ نیا سلسلہ مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ دونوں طرف سے فی الحال ان رابطوں کے حوالے سے باضابطہ طور پر زیادہ تفصیلات میڈیا کے سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے نمایاں سیاسی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں اور دونوں جماعتیں مل کر کسی درمیانی راستے پر اتفاق کر سکتی ہیں۔