LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے نامزد اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچ کو ریپبلکن مخالفت کا سامنا

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹارنی جنرل کے لیے نامزد کردہ سابق وکیلِ صفائی ٹاڈ بلانچ کو اپنی وفاداری کے حوالے سے شدید جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ان کی راہ میں ممکنہ قانونی اور سیاسی رکاوٹیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔
نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محکمہ انصاف کے سب سے اہم عہدے یعنی اٹارنی جنرل کے لیے نامزد کیے جانے والے ٹاڈ بلانچ کو سینیٹ کی توثیق کے عمل کے دوران ریپبلکن پارٹی کے اراکین کی طرف سے ممکنہ مزاحمت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹاڈ بلانچ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی دفاعی وکیل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کی نامزدگی پر واشنگتن کے سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان کی نامزدگی کے پیچھے ٹرمپ کے ساتھ پرانی وابستگی اور ذاتی وفاداری ہے، جس کی وجہ سے کئی قانون سازوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ نامزدگی کے اعلان کے بعد سے ہی ٹاڈ بلانچ کی مبینہ سیاسی وفاداری اور ماضی کے مقدمات میں ان کے کردار پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے، تاہم کچھ اعتدال پسند ریپبلکن سینیٹرز کا ماننا ہے کہ اٹارنی جنرل کا عہدہ انتہائی حساس ہے اور اس پر کسی ایسے شخص کو فائز ہونا چاہیے جو پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ اس صورتحال کے باعث ٹاڈ بلانچ کے لیے سینیٹ سے توثیق حاصل کرنا ایک آسان ہدف نہیں ہوگا اور انہیں کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے حامی اس نامزدگی کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹاڈ بلانچ ایک تجربہ کار وکیل ہیں جو محکمہ انصاف میں اصلاحات لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے موکل کا بھرپور دفاع کیا ہے اور اب وہ اسی عزم کے ساتھ قومی سطح پر خدمات انجام دینے کے خواہشمند ہیں۔ آنے والے دنوں میں سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے روبرو ہونے والی سماعتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی، جہاں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ آیا ٹاڈ بلانچ اس منصب کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔ اس پورے معاملے نے امریکی سیاست میں ایک بار پھر تناؤ کو جنم دیا ہے اور تمام کی نگاہیں سینیٹرز کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔