World
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم، ٹرمپ اور کم جونگ ان مذاکرات
جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں طے شدہ وقت سے چھ دن پہلے ہی ختم کی جا رہی ہیں۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
واشنگٹن اور سیول کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے اور خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کے تحت، امریکہ اور جنوبی کوریا نے اپنی مشترکہ فوجی مشقیں شیڈول سے چھ دن پہلے ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام کی جانب سے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ قدم واشنگٹن کی خصوصی درخواست پر اٹھایا گیا ہے تاکہ سفارتی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس اقدام کو موجودہ امریکی انتظامیہ کی اس پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے خواہاں ہیں۔ مبصرین کے مطابق، فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کرنا اور انہیں قبل از وقت ختم کرنا پিয়ونگ یانگ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے تاکہ جوہری تنازع کے حل کے لیے منجمد مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ ماضی میں بھی ان فوجی مشقوں کو شمالی کوریا کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور پیانگ یانگ نے ہمیشہ انہیں جنگی تیاریوں سے تعبیر کیا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں جاری کشیدگی میں عارضی طور پر کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم اس بات کا دار و مدار اس پر ہے کہ شمالی کوریا اس سفارتی پیش رفت پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس پیش رفت کو بڑی امید کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے کیونکہ کوریائی شبه جزیرے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین اعلیٰ سطح کے مذاکرات ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اس تبدیلی سے آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر مزید اہم رابطوں کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے خطے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔