Business
ایشیائی کرنسیوں میں تیزی، امریکی ٹریژری ییلڈ میں کمی
امریکی ڈالر کے کمزور ہونے اور ٹریژری ییلڈ میں کمی کے باعث ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اس دوران جنوبی کوریا کا وون ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ تائیوان کا ڈالر بھی نمایاں اضافے کے ساتھ سرفہرست ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ٹریژری کی پیداوار میں کمی اور ڈالر کے دباؤ میں آنے کے بعد ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے بہتر رسک اپٹائٹ اور کمزور امریکی ڈالر نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے زرمبادلہ کو نئی زندگی بخشی ہے، جس سے خطے کے مالیاتی بازاروں میں تازگی محسوس کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسیوں کے حوالے سے نئی قیمتوں کے تعین اور امریکی شرح سود میں متوقع تبدیلیوں نے بھی امریکی ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے، جس کا براہ راست فائدہ ایشیائی کرنسیوں کو ملا ہے۔ اس دوران ایشیائی مارکیٹ میں نمایاں ترین کارکردگی جنوبی کوریا کے وون کی رہی، جو اپنی مضبوط پوزیشن ظاہر کرتے ہوئے ایک سال کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔ اس کے علاوہ تائیوان کا ڈالر بھی ابھرتی ہوئی ایشیائی کرنسیوں میں سرفہرست کارکردگی دکھانے والوں میں شامل رہا، جسے کمزور ڈالر کی وجہ سے ملنے والے مثبت جذبے کا بھرپور سہارا ملا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے کچھ جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور موجود ہیں، لیکن امریکی پیداوار میں کمی نے ان خطرات کے اثرات کو کسی حد تک زائل کر دیا ہے۔ ایم یو ایف جی اور بلومبرگ جیسے مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، ریجنل فاریکس مارکیٹس میں فی الحال ایک وقتی سکھ کا سانس دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار عالمی اقتصادی اشاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے بیانات ایشیائی کرنسیوں کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، تاہم فی الحال یہ رجحان سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔