World
یوکرینی وزیر دفاع کا صدارتی انتخابات کا مطالبہ
یوکرین کے برطرف وزیر دفاع نے فروری 2022 سے نافذ مارشل لا کے خاتمے اور ملک میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ یوکرین میں جنگی صورتحال کے باعث تمام سیاسی اور انتخابی عمل معطل چلا آ رہا ہے۔
یوکرین کے برطرف وزیر دفاع نے ایک اہم بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ یاد رہے کہ یوکرین میں فروری 2022 سے مارشل لا نافذ ہے جس کے تحت تمام قسم کے انتخابات اور سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔ اس مارشل لا کا مقصد ملک کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا تھا، تاہم اب اس طویل المعیاد تعطل پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔
برطرف وزیر دفاع کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی حلقوں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ جنگ کے باوجود جمہوری عمل کی بحالی اور عوام کو ان کا حق رائے دہی دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مارشل لا کے نفاذ کے بعد سے ملکی سیاست میں جو جمود طاری تھا، اس بیان کے بعد اس میں ہلچل مچ گئی ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے فی الحال اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن دارالحکومت کی سیاسی فضا میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یوکرین جیسے ملک میں جہاں جمہوری اقدار اور مغرب نواز پالیسیوں کا دعویٰ کیا جاتا ہے، انتخابات کا انعقاد طویل مدت تک روکے رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس مطالبے کے بعد ملکی سیاست اور بین الاقوامی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ کیا یوکرین کی قیادت مارشل لا میں نرمی لاتے ہوئے انتخابات کی طرف قدم بڑھائے گی یا نہیں، اس کا دارالحمدار جنگی صورتحال اور اندرونی سلامتی کے حالات پر ہوگا۔