LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں لاپتہ افراد کی تلاش: خاندانوں کا کٹھن سفر اور مشکلات

News Image
جنگ بندی کے طویل عرصے بعد بھی غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات کے حصول کے لیے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کو طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں کے تاحال لاپتہ رہنے کا ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے۔ علاقے کے مکین اور متاثرہ خاندان آج بھی اس کٹھن اور اذیت ناک حقیقت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ ان کے پیارے کہاں ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بننے والے علاقوں میں اپنوں کی تلاش کا یہ سلسلہ انتہائی مشکل اور مایوس کن ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کی وجہ سے لاپتہ افراد کی باقاعدہ تلاش اور شناخت کے لیے کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر وہ ہسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور ملبے کے ڈھیروں کا چکر لگاتے ہیں تاکہ اپنے بچوں، والدین یا بہن بھائیوں کے بارے میں کوئی سراغ مل سکے۔ ان لاپتہ افراد میں بڑی تعداد ایسے شہریوں کی ہے جو بمباری کے دوران لاپتہ ہوئے یا جنہیں حراست کے دوران نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ خاندانوں کے لیے یہ بے یقینی موت سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے، کیونکہ وہ نہ تو اپنے پیاروں کی تدفین کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی سلامتی سے ناامید ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ غزہ کا ایک اور بڑا انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ تنظیموں کے مطابق، متاثرہ خاندانوں کو نفسیاتی مدد کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بارے میں سچ جاننے کا حق حاصل ہے۔ عالمی برادری اور انسانی امداد کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں سے بارہا اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تاکہ بے گناہ شہریوں کے لواحقین کی اس اذیت کا مداوا کیا جا سکے، تاہم عملی طور پر تاحال کوئی خاطر خواہ پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔