Business
کوئلے کی تجارت میں بڑا منافع، ایران جنگ کے اثرات
ایران جنگ اور عالمی کشیدگی کے تناظر میں کوئلے کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عارضی تیزی کے باوجود عالمی سطح پر صاف توانائی کی طرف منتقلی کا عمل اب بھی اپنی جگہ پر جاری ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کے شعبے میں جاری ہلچل کے درمیان کوئلے کی تجارت کرنے والی کمپنیوں نے اپنے منافع میں ہوشربا اضافے کی رپورٹس جاری کی ہیں۔ جنوبی افریقہ سے لے کر آسٹریلیا تک کے اہم مائننگ اور توانائی کے مراکز میں کوئلے کی طلب اور قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس نے معاشی ماہرین کی توجہ مبذول کرا دی ہے۔ اس اچانک اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے گرد کشیدگی اور جنگی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے روایتی توانائی کی سپلائی لائنز متاثر ہوئی ہیں اور ممالک متبادل ذرائع کی تلاش پر مجبور ہیں۔دوسری جانب، اس قلیل مدتی تیزی کے باوجود بین الاقوامی توانائی کے تجزیہ کاروں کا یہ موقف ہے کہ اس سے طویل مدتی عالمی توانائی کی پالیسیوں پر کوئی گہرا فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں روایتی ایندھن سے نکل کر صاف اور ماحول دوست توانائی یعنی گرین انرجی کی طرف منتقلی کا سفر بدستور جاری ہے اور اس میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔ حکومتیں اور ادارے آب و ہوا میں تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے طویل مدتی اہداف پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔کوئلے کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے یہ منافع کا دور اگرچہ مالیاتی لحاظ سے انتہائی سودمند ثابت ہو رہا ہے، لیکن اس صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ جنگی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کس طرح لمحہ بھر میں رسد اور طلب کے توازن کو بدل سکتی ہے، اس کا اندازہ اس تازہ ترین رجحان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی یہ کیفیت چند مخصوص عوامل کے تحت اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گی۔