World
امریکہ جنوبی کوریا فوجی مشقیں اور شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی روایتی اور مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اون کو دوبارہ بات چیت کے عمل میں شامل کرنا اور جزیرہ نما کوریا میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، واشنگٹن کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم ایک اہم سفارتی اشارہ ہے تاکہ پِھیانگ یانگ کو واشنگٹن کے ساتھ براہ راست روابط بحال کرنے پر راضی کیا جا سکے۔
تاہم، اس حوالے سے دفاعی تجزیہ کاروں میں شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف عسکری مشقوں میں کمی یا انہیں معطل کرنے سے کم جونگ اون کو بیجنگ کےگہرے اثر و رسوخ اور اتحاد سے دور کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوگا۔ شمالی کوریا اور چین کے درمیان تاریخی، سیاسی اور معاشی تعلقات بہت مضبوط ہیں، جنہیں محض چند امریکی رعایتوں کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ پِھیانگ یانگ کے بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں طویل عرصے سے شمالی کوریا کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ شمالی کوریا ان مشقوں کو ہمیشہ اپنے خلاف جنگی تیاری اور جارحیت کی علامت قرار دیتا ہے۔ ماضی میں بھی جب ان مشقوں میں کمی کی گئی تو کچھ عرصے کے لیے سفارتی سطح پر بہتری دیکھنے میں آئی تھی، لیکن اس کے دیرپا اور تزویراتی نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ کی اس نئی مصالحتی پالیسی کا کوئی عملی نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ واشنگٹن مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ بیجنگ اور پِھیانگ یانگ کے درمیان موجود گہرے تزویراتی تعلقات کو نظر انداز کر کے خطے میں پائیدار امن یا توقعات کے مطابق سفارتی پیش رفت حاصل کرنا ایک کٹھن امتحان ہوگا۔