LIVE
Loading Breaking News...

اولیویا وائلڈ کی فلم دی انوائٹ اور سٹوڈیو سسٹم پر گفتگو

News Image
معروف ہدایت کارہ اولیویا وائلڈ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی فلم 'دی انوائٹ' کو روایتی ہالی ووڈ سٹوڈیو فلم کے طور پر بنانا انتہائی مشکل اور ناممکن تھا۔ انہوں نے آزادانہ پروڈکشن کے فوائد پر روشنی ڈالی اور تخلیقی آزادی کو اہمیت دی۔
معروف ہالی ووڈ اداکارہ اور ہدایت کارہ اولیویا وائلڈ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی آنے والی فلم 'دی انوائٹ' کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کھل کر اس بات پر بحث کی کہ کیوں اس پراجیکٹ کو روایتی ہالی ووڈ سٹوڈیو فلم کے طور پر بنانا سراسر ناممکن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹوڈیو سسٹم کی سخت شرائط اور تجارتی مجبوریوں کی وجہ سے اس کہانی کو اس کے اصل رنگ میں پردہ سکرین پر لانا انتہائی دشوار تھا۔ اولیویا وائلڈ کے مطابق، آج کے دور میں بڑے سٹوڈیوز ایسی فلموں پر خطرہ مول لینے سے گریز کرتے ہیں جو روایتی فارمولا کہانیوں سے ہٹ کر ہوں۔ 'دی انوائٹ' ایک منفرد موضوع پر مبنی ہے جس کے لیے مکمل تخلیقی آزادی کی ضرورت تھی۔ سٹوڈیو پروڈکشن میں اکثر ڈائریکٹرز کو اپنے وژن سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، جو کہ اس فلم کے معاملے میں ہرگز ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے متبادل اور آزاد ذرائع سے مالی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پراجیکٹ کے لیے انڈسٹری کے روایتی ڈھانچے سے ہٹ کر کام کرنا ایک چیلنجنگ لیکن انتہائی کارآمد تجربہ ثابت ہوا۔ وائلڈ کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں آزاد فلم سازوں کو مالی مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے بدلے میں انہیں اپنے فن پر مکمل اختیار ملتا ہے۔ ناظرین بھی اب ایسے پراجیکٹس کو زیادہ سراہ رہے ہیں جن میں سچی تخلیق اور روایتی ہالی ووڈ کے اثرات سے پاک کہانی ہو۔ فلم 'دی انوائٹ' کے حوالے سے فلمی حلقوں میں پہلے ہی کافی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں اور ناقدین کا خیال ہے کہ اولیویا وائلڈ کا یہ قدم ان کے کیریئر میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔ سٹوڈیو سسٹم کو چھوڑ کر انڈی فلم سازی کی طرف یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ تخلیقی آزادی ہی آنے والے وقت میں بہترین سنیما کی ضمانت بن سکتی ہے۔