World
جاپان کی معاشی سستی اور وزیر اعظم تاکایچی کا اقتصادی ایجنڈا
جاپان کے کمزور معاشی اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم ثانائے تاکایچی کا اقتصادی ایجنڈا سخت دباؤ میں آ گیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک کی معاشی بحالی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور مرکزی بینک کے آئندہ کے فیصلوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
ٹوکیو: جاپان کی وزیر اعظم ثانائے تاکایچی کی معاشی ترقی کی حکمت عملی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب معیشت کی غیر متوقع طور پر سست رفتار کے اعداد و شمار سامنے آئے۔ اٹھارہ اگست کو جاری ہونے والی ان رپورٹس نے جاپانی معیشت کی بحالی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور اس بات کو عیاں کر دیا ہے کہ ملک میں اقتصادی ترقی کی راہیں کتنی نازک اور غیر یقینی ہیں۔ اس صورتحال نے حکومت کے لیے نئے سیاسی اور معاشی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور اعداد و شمار نے نہ صرف حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ اس نے مالیاتی پالیسی سازوں بالخصوص بینک آف جاپان کے اگلے ممکنہ سود کی شرح سے متعلق فیصلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بینک آف جاپان کے لیے اب یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ کمزور بحالی اور گرتی ہوئی شرح نمو نے روایتی پالیسیوں کی افادیت کو محدود کر دیا ہے۔ سیاسی محاذ پر بھی وزیر اعظم تاکایچی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اور ناقدین ان کے معاشی ایجنڈے کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ جاپانی حکومت اس معاشی جمود سے نکلنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا وہ اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔