Business
نکی انڈیکس 69 ہزار کی سطح پر بحال، اے آئی شیئرز کی شاندار کارکردگی
ٹوکیو کے اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جہاں نکی 225 انڈیکس 69 ہزار کی حد عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ مصنوعی ذہانت سے وابستہ حصص کی خریداری نے معاشی ترقی کے سست رفتار اعداد و شمار کے اثرات کو ختم کر دیا۔
ٹوکیو کے حصص بازار میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جہاں نکی 225 انڈیکس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 69 ہزار کی اہم نفسیاتی حد عبور کر گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر نکی انڈیکس 69,220.25 کی سطح پر بند ہوا جس میں مجموعی طور پر 506.45 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس ریکوری کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اور سیمی کنڈکٹر سے متعلقہ کمپنیوں کے شیئرز میں ہونے والی زبردست خریداری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے ان شعبوں میں گہری دلچسپی نے مارکیٹ کے رجحان کو مثبت رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب یہ بحالی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے معاشی اعشاریوں اور مجموعی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی پی کے حوالے سے خدشات پائے جا رہے تھے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق معاشی ترقی کی رفتار توقعات سے کچھ کمزور رہی ہے جبکہ بانڈ کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ اور دیگر اقتصادی شعبوں کے حوالے سے تجارتی حلقوں میں تحفظات موجود تھے۔ ان تمام منفی عوامل اور معاشی دباؤ کے باوجود ٹیکنالوجی اور بالخصوص مصنوعی ذہانت سے جڑے حصص کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ انہوں نے مجموعی مارکیٹ کو مندی کے اثرات سے محفوظ رکھا اور انڈیکس کو بلندی کی طرف گامزن کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سیمی کنڈکٹرز کی مستقل طلب نے جاپانی حصص بازار کو ایک نئی توانائی فراہم کی ہے۔ اگرچہ معاشی چیلنجز بدستور موجود ہیں اور ماہرین ملک کی سست معاشی ترقی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا یہ تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ سرمایہ کار طویل المدتی بنیادوں پر جدید صنعتوں پر اعتماد کر رہے ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی کارکردگی نکی انڈیکس کی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔