LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں خواتین کی لیبر مارکیٹ کا سکڑاؤ اور اقوام متحدہ کی تشویش

News Image
اقوام متحدہ کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کی لیبر مارکیٹ میں حصہ داری صرف پانچ فیصد تک رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو روزگار اور تعلیم کے شعبوں سے مسلسل خارج کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کی لیبر مارکیٹ میں حصہ داری ڈرامائی طور پر کم ہو کر محض پانچ فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک میں صنفی مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی تشویشناک عکاسی کرتی ہے، جہاں خواتین اور لڑکیوں کو پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبوں میں منظم طریقے سے حاشیے پر ڈالا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران طالبان کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2021 کے بعد سے اب تک ڈھائی ملین سے زائد افغان لڑکیوں کو سیکنڈری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، جس سے مستقبل کی خواتین افرادی قوت کی تربیت کا سلسلہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔ یونیسف اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعلیم اور روزگار کے دروازے بند ہونے سے نہ صرف خواتین کی ذاتی ترقی رک گئی ہے بلکہ پورے ملک کی معاشی بحالی بھی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ عالمی سطح پر ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ طالبان حکومت نے ملکی سطح پر بعض انتظامی امور سنبھالنے کی کوشش کی ہے، تاہم نصف آبادی کو معاشی اور تعلیمی سرگرمیوں سے باہر رکھنے کی وجہ سے افغانستان اقتصادی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے باوجود اندرونِ ملک خواتین اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں کی جانب سے خاموش مزاحفت اور بقا کی جنگ بدستور جاری ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پرامید ہیں۔