World
اسرائیلی آباد کار کا قتل کے بعد قانون سے فرار، نئی رپورٹ جاری
ایک نئے فلسطینی انسانی حقوق کے گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ عودہ ہذالین کو قتل کرنے والا اسرائیلی آباد کار اب تک قانون سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس معاملے میں انصاف کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک اسرائیلی آباد کار جس نے فلسطینی نوجوان عودہ ہذالین کو قتل کیا تھا، اب تک قانون کے کٹہرے سے باہر ہے اور اسے انصاف کے سامنے نہیں لایا جا सका۔ اس سنگین واقعے نے ایک بار پھر مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے حقوق اور قانونی چارہ جوئی کے مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی اعداد و شمار اور شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کے لیے طویل عرصے سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔
رپورٹ کے مطابق عودہ ہذالین کا قتل محض ایک الگ تھلک واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر ماحول کا حصہ ہے جہاں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو روزمرہ کی بنیاد پر تشدد اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے جرائم کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مقامی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اس کیس میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے قاتل تاحال قانون کی گرفت سے آزاد گھوم رہا ہے۔
بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا تو اس سے مقبوضہ علاقوں میں بے چینی اور عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف متاثرہ خاندان اور مقامی شہری انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں اور انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ عودہ ہذالین کے خون سے ناانصافی نہ ہو اور اصل مجرموں کو کڑی سزا دی جا سکے۔