Technology
کارپوریٹ اے آئی کی ترویج اور پیمائش کے رجحانات
نئی رپورٹ کے مطابق کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اس شعبے میں سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں واضح اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ کاروباری رہنما اب صرف تجربات کے بجائے ٹھوس اعداد و شمار پر مبنی اے آئی سسٹمز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
جدید کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی حکمت عملیوں پر اگرچہ بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، لیکن اس کی تنصیب اور پھیلاؤ تمام شعبوں میں یکساں رفتار سے نہیں ہو رہا۔ اگست 2026 کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، کارپوریٹ سطح پر اے آئی کا استعمال سب سے زیادہ ان شعبوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں اس کے نتائج کی براہِ راست اور واضح پیمائش کی جا سکتی ہے۔ کمپنیاں اب اندھے اعتماد کے بجائے ان منصوبوں پر زیادہ سرمائے کاری کر رہی ہیں جن کی کارکردگی کو ڈیجیٹل میٹرکس کے ذریعے جانچا جا سکے۔
رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کاروباری منتظمین اور چیف ٹیکنالوجی افسران اب ایسے اے آئی سسٹمز کو ترجیح دے رہے ہیں جو کم سے کم وقت میں واضح پیداواری فوائد یا اخراجات میں کمی لانے کا سبب بنیں۔ کسٹمر سروس، سپلائی چین مینجمنٹ اور مالیاتی تجزیات جیسے شعبے اس معاملے میں سرفہرست ہیں کیونکہ یہاں ہر فیصلے کے اثرات کو مالیاتی اور کارکردگی کے پیمانوں پر فوراً پرکھا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایسے شعبے جہاں اے آئی کے فوائد طویل المدتی اور غیر واضح ہوتے ہیں، وہاں سست روی کا شکار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کے اندر اے آئی کا یہ انتخابی پھیلاؤ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ اب روایتی رجحانات سے نکل کر نفع بخش اور کارآمد ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جب تک کمپنیاں اپنے اے آئی پروجیکٹس پر آنے والے اخراجات کا منافع واضح طور پر نہیں دیکھ لیتی ہیں، تب تک وہ بڑے پیمانے پر فنڈنگ سے گریز کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا سائنس اور پرفارمنس اینالیٹکس کی اہمیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تاکہ ہر اے آئی ٹول کی کارکردگی کو بروقت مانیٹر کیا جا سکے اور کاروباری اہداف حاصل کیے جا سکیں۔