Technology
چندی گڑھ یونیورسٹی کے طالب علم کا AI اسٹارٹ اپ، ٹرن اوور پچاس لاکھ سے تجاوز
چندی گڑھ یونیورسٹی کے ایک ہونہار طالب علم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹارٹ اپ 'فوویا انفو ٹیک' کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کمپنی نے اپنے قیام کے پہلے سال کے اندر ہی پچاس لاکھ روپے سے زائد کا کاروبار کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں چندی گڑھ یونیورسٹی کے ایک باصلاحیت طالب علم نے اپنی محنت اور لگن سے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ اس طالب علم نے اپنے منفرد اور جدید خیالات کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے 'فوویا انفو ٹیک' نامی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹارٹ اپ کی بنیاد رکھی۔ کمپنی کا بنیادی مقصد کاروباری اداروں کو جدید ترین ڈیجیٹل حل، مربوط سافٹ ویئر، اور مصنوعی ذہانت کی خودکار سروسز فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے ترقی کر سکیں۔
اسٹارٹ اپ نے اپنی محنت اور معیاری خدمات کے بل بوتے پر کاروباری دنیا میں تیزی سے نام پیدا کیا۔ حیرت انگیز طور پر، اپنے باضابطہ آغاز کے ایک سال سے بھی کم عرصے کے اندر اس کمپنی نے پچاس لاکھ روپے سے زائد کا شاندار ٹرن اوور حاصل کر لیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف بانی نوجوان کی کاروباری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاس ہے کہ آج کے نوجوان روایتی نوکریوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
'فوویا انفو ٹیک' کی جانب سے پیش کی جانے والی خدمات میں برینڈنگ، ڈیجیٹل گروتھ سلوشنز اور جدید کاروباری سافٹ ویئر شامل ہیں جن کی مانگ مارکیٹ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم اور اپنے اساتذہ کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طالب علم نے اپنے آئیڈیا کو ایک کامیاب تجارتی ادارے میں تبدیل کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملکی معیشت کو فروغ ملتا ہے بلکہ نوجوان نسل میں خود کفالت اور جدت طرازی کا رجحان بھی پروان چڑھتا ہے۔
اس شاندار کامیابی کے بعد، بانی اب اپنے اسٹارٹ اپ کو مزید وسعت دینے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی خدمات کا دائرہ کار پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آنے والی اس تبدیلی سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر نوجوانوں کے پاس درست لائحہ عمل اور ٹیکنالوجی کی مہارت ہو تو وہ قلیل مدت میں بھی انتہائی بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں، جو کہ آنے والے دنوں میں دیگر طلباء کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔