World
غزہ کے طلباء کی انوکھی پہل: آئس کریم شاپ سے تعلیمی اخراجات کی فراہمی
جنگ سے متاثرہ غزہ میں فلسطینی طلباء نے یونیورسٹی کی فیسیں ادا کرنے کے لیے فلورا نامی آئس کریم شاپ اور کیفے کا آغاز کیا ہے۔ یہ انوکھا اقدام تعلیمی مشکلات کے باوجود نوجوانوں کے عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔
جنگ اور تباہی سے دوچار غزہ میں فلسطینی طلباء نے اپنی تعلیمی راہیں ہموار کرنے کے لیے ایک انتہائی انوکھا اور قابل تحسین قدم اٹھایا ہے۔ یہاں کے نوجوانوں نے 'فلورا' کے نام سے ایک آئس کریم شاپ اور کیفے کا آغاز کیا ہے جس کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کی بھاری فیسیں ادا کرنا اور تعلیمی اخراجات پورے کرنا ہے۔ اس پرفتن دور میں جہاں تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور روزگار کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں، طلباء نے ہم ہارنے کے بجائے خود انحصاری کا راستہ چنا ہے۔
اس کیفے کو چلانے والے طلباء کا کہنا ہے کہ جنگ نے ان کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے اور ان کے تعلیمی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا تھا مگر انہوں نے حالات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ یہ چھوٹی سی دکان نہ صرف ان کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ یہ غزہ کے عوام کی پائیداری اور زندگی کی رمق کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہاں آنے والے گاہک بھی ان طلباء کے جذبے کو سراہتے ہیں اور اس چھوٹی سی کوشش میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
اس اقدام کے ذریعے طلباء یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جنگ اور کٹھن حالات بھی ان کے خوابوں کو توڑ نہیں سکتے۔ وہ اپنی محنت اور لگن سے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مقامی سطح پر اس کیفے کو کافی پذیرائی مل رہی ہے اور یہ جگہ اب طلباء اور شہریوں کے لیے امید کی ایک کرن بن چکی ہے جہاں وہ کچھ لمحے سکون کے گزار سکتے ہیں اور نوجوانوں کی اس کاوش کو سراہ سکتے ہیں۔