World
آبنائے ہرمز کی بندش: ایران کا امریکہ کے لیے واضح پیغام
ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک امریکہ عبوری معاہدے کی تمام شرائط پوری نہیں کرتا۔ ایرانی حکام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مطالبات ماننے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
تہران: ایران کے اعلیٰ عہدیداروں اور سفارتی ذرائع نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اہم تجارتی اور توانائی راہداری آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ عبوری معاہدے کے حوالے سے تہران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ اس سلسلے میں ایرانی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح سرخ لکیر کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب ایشیا کے موجودہ بحران میں امریکہ کو ایران کے جائز مطالبات کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ ایرانی موقف کے مطابق جب تک واشنگٹن عبوری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کا یقین نہیں دلاتا، تب تک آبنائے ہرمز سے متعلق کسی قسم کی نرمی کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی سفارت کاروں نے امریکی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ امریکہ کس حد تک تعمیری انداز میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور جہاز رانی کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ یکطرفہ دباؤ کی پالیسی ترک کرے اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اسی سمندری راستے پر انحصار کرتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس بحری راستے کی بندش کے بعد عالمی طاقتیں صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک برقرار رہا تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ انہوں نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور امریکہ کی جانب سے جب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی جاتی، تہران اپنے فیصلوں پر قائم رہے گا۔