LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز بحران اور آف شور تیل کی اہمیت

News Image
مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبِ ہرمز میں جہرانی نقل و حرکت متاثر ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے خشکی کے مقابلے میں سمندری یعنی آف شور تیل کے ذخائر اور ان کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ بالخصوص آبِ ہرمز کے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ ایران کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعات اور خطے میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر پڑنے والے اثرات نے توانائی کی سپلائی لائنز کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کے توانائی کے شعبے کے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ روایتی زمینی تیل کے ذرائع کے مقابلے میں سمندری یا آف شور تیل کے ذخائر کتنی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راہداریوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔ حالیہ کشیدگی اور مبینہ دھمکیوں کے بعد متعدد تیل بردار جہازوں کو اپنی سمت تبدیل کرنا پڑی یا انہوں نے خطرے کے پیش نظر یو ٹرن لے لیا۔ اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈیوں میں سپلائی کے تعطل کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کے نرخوں میں مسلسل اوپر کی طرف رجحان دیکھا جا رہا ہے اور سرمایہ کار بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں آف شور تیل کے پراجیکٹس اور سمندر برد ذخائر کی تلاش اور ان پر انحصار کو ایک طویل المدتی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جو ممالک خشکی کے راستوں اور حساس بحری گزرگاہوں سے ہٹ کر سمندری حدود میں تیل کے حصول کے قابل ہیں، وہ اس بحران کے دوران نسبتاً محفوظ تصور کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں توانائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آف شور آئل فیلڈز میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا ہوگا تاکہ آبِ ہرمز جیسے اہم مقامات پر کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں عالمی معیشت اور توانائی کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔