LIVE
Loading Breaking News...

سال 2025 میں امدادی کارکنوں پر حملے اور غزہ کی صورتحال

News Image
اقوام متحدہ کے مطابق سال 2025 میں دنیا بھر میں امدادی کارکنوں پر حملوں کے ریکارڈ واقعات پیش آئے ہیں۔ غزہ مسلسل تیسرے سال بھی انسانی حقوق اور امدادی کارکنوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ترین مقام قرار پایا ہے۔
اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں انسانی خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنوں کو تاریخ کے بدترین اور ریکارڈ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تنازعات اور جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے یہ کارکن جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، اس سال سب سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ عالمی اداروں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق غزہ کا علاقہ ایک بار پھر انسانی اور امدادی کارکنوں کے لیے مسلسل تیسرے سال دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک ترین مقام ثابت ہوا ہے۔ صرف سال 2025 کے دوران غزہ میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے 186 کارکن اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محاصرہ زدہ اور شدید جنگی حالات میں کام کرنے والے افراد کس قدر غیر محفوظ ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جس سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں پر حملے جنگی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں جن کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عملی اقدامات کرے تاکہ تنازعات کے شکار علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے عملے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے بصورت دیگر فلاحی اور امدادی کاموں کا تسلسل بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔