LIVE
Loading Breaking News...

زرعی انکم ٹیکس: اہداف پورے نہ ہونے پر فکسڈ ٹیکس لانے کا عندیہ

News Image
حکومت کی جانب سے زرعی شعبے سے متعلق ٹیکس اہداف کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں فکسڈ زرعی انکم ٹیکس نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
اسلام آباد: حکومت نے ملکی معیشت کو استحکام دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے زرعی شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اگر زرعی شعبے سے متعلق مقررہ ٹیکس اہداف مقررہ مدت میں حاصل نہ کیے جا سکے، تو حکومت فکسڈ زرعی انکم ٹیکس نافذ کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں زرعی شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اس شعبے سے خاطر خواہ ٹیکس وصولی ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر زرعی ٹیکس کے نظام کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکی معاشی ٹیم کی جانب سے بھی زرعی آمدنی کو درست طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اگر کسان اور بڑے زمیندار رضاکارانہ طور پر یا موجودہ نظام کے تحت اہداف پورے کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو حکومت کے پاس فکسڈ ٹیکس کا طریقہ کار اپنانے کے علاوہ کوئی چوبارہ نہیں بچے گا۔ اس ممکنہ اقدام سے چھوٹے کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے جبکہ بڑے زرعی مالکان اور جاگیرداروں کو جن کی آمدنی لاکھوں اور کروڑوں میں ہے، ٹیکس کے دائرے میں لانے کا پلان بنایا جا رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ اور متعلقہ محکمے اس حوالے سے تمام ممکنہ خدوخال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملکی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے پر بھی زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم پالیسی فیصلوں متوقع ہیں جو ملکی معیشت اور ٹیکس وصولی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔