World
اسرائیل میں سبت کے روز کیفے کا تنازع اور اندرونی شگاف
اسرائیل میں سبت کے دن ایک کیفے کے باہر ہونے والے تصادم نے ملک کے اندر موجود شدید ثقافتی اور سیاسی تناؤ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس واقعے نے سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اسرائیل میں سبت (Sabbath) کے روز ایک کیفے کے باہر پیش آنے والے تصادم نے ملک کے اندرونی سماجی اور سیاسی شگافوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح اسرائیلی معاشرہ اندرونی طور پر نظریاتی اور ثقافتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک طرف مذہبی طبقہ روایات اور مذہبی قوانین کی سخت پاسداری کا خواہاں ہے، تو دوسری طرف سیکولر آبادی ذاتی آزادیوں اور طرزِ زندگی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ اس کشمکش نے حالیہ برسوں میں خطرناک حد تک شدت اختیار کر لی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کے واقعات محض معمولی جھگڑے نہیں ہیں بلکہ یہ اس گہری ثقافتی جنگ کا حصہ ہیں جو اسرائیل کے طول و ارض میں لڑی جا رہی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں سیکولر اور لبرل نظریات کے حامل افراد ایک آزاد ماحول میں جینا چاہتے ہیں، جبکہ قدامت پسند اور مذہبی جماعتیں سرکاری سطح پر بھی مذہبی اصولوں کے نفاذ کی حامی ہیں۔ جب یہ دونوں متصادم دنیائیں آپس میں ٹکراتی ہیں، تو اس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی خطرے میں پڑ جاتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس تصادم نے سیاسی میدان میں بھی ہلچل مچا دی ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ووٹر بیس کو خوش کرنے کے لیے اس تنازع کو استعمال کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس بڑھتے ہوئے پولرائزیشن کو روکنے کے لیے سنجیدہ مکالمے کا آغاز نہ کیا گیا، تو یہ اندرونی تقسیم اسرائیل کے لیے بیرونی خطرات سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں ریاست کی سمت کا تعین کرنے کے لیے سیکولر اور مذہبی قوتوں کے مابین ایک نیا سماجی معاہدہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔