LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی معیشت اور موبائل کنیکٹیویٹی: کارکنوں کے لیے تین ہفتے کی بچت

News Image
موبائل نیٹ ورکس پر اعتماد کی کمی برطانوی کارکنوں کا سالانہ لاکھوں گھنٹے ضائع کر رہی ہے جس سے لچکدار کام کے رجحان کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ بہتر رابطے کی فراہمی سے معیشت کو اربوں پاؤنڈز کا فائدہ اور کارکنوں کو سالانہ تین ہفتے کا اضافی وقت مل سکتا ہے۔
برطانیہ میں حالیہ تحقیقی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ملک بھر میں موبائل نیٹ ورک کی کارکردگی اور کنیکٹیویٹی پر اعتماد کو بہتر بنایا جائے تو برطانوی کارکن سالانہ تین ہفتے تک کا غیر پیداواری وقت بچا سکتے ہیں۔ اس وقت ملک کے ایک بڑے حصے میں ملازمین کو سگنل کے مسائل اور ناقص انٹرنیٹ کنکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ لچکدار کام کرنے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا مکمل استعمال نہیں کر پاتے۔ ماہرین کے مطابق، اس مسئلے کا حل نہ صرف ملازمین کی روزمرہ کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ مجموعی طور پر برطانوی معیشت میں بھی اربوں پاؤنڈز کا اضافہ ہوگا۔ جدید دور میں جہاں بیشتر کاروباری امور اور دفتری ذمہ داریاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور موبائل نیٹ ورکس پر منحصر ہیں، وہاں کنیکٹیویٹی کا غیر یقینی ہونا ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ بہت سے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ دفاتر سے باہر یا دورانِ سفر کام کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، لیکن ناقص نیٹ ورک کوریج ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس صورتحال میں جب ملازمین کو بار بار کنکشن کٹنے یا سست رفتار انٹرنیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ان کا قیمتی وقت اور توجہ دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ اگر ٹیلی کام کمپنیاں اور حکومت اس بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کریں اور دیہی و شہری علاقوں میں سگنل کے معیار کو یکساں طور پر بہتر بنائیں، تو اس کے معیشت پر انتہائی گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لچکدار کام کے نظام کو پوری طرح کامیاب بنانے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ کارکنان اپنے موبائل نیٹ ورکس پر مکمل اعتماد محسوس کریں۔ جب ملازمین کو یہ یقین ہوگا کہ وہ کہیں سے بھی بلا تعطل رابطہ قائم کر سکتے ہیں، تو ان کی پیداواری صلاحیت میں خود بخود نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس طرح نہ صرف ملازمین کا ذہنی تناؤ کم ہوگا بلکہ وہ اپنے کام کو زیادہ بہتر طریقے سے سر انجام دے سکیں گے۔ حکومتی اداروں اور متعلقہ صنعتوں کو اس سمت میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برطانیہ کو ایک مضبوط اور مربوط ڈیجیٹل معیشت بنایا جا سکے اور کارکنوں کا ضائع ہونے والا وقت بچایا جا سکے۔