Technology
انڈونیشیا میں پام آئل کے فضلے سے بائیو گیس کی تیاری کی صلاحیت
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انোভেশন ایجنسی نے پام آئل کے فضلے سے بائیو گیس کی پیداوار کو ملکی معیشت اور توانائی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس شعبے میں سرمایہ کاری سے پائیدار توانائی کے حصول میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔
جکارتا (انٹارا) - انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انোভেশন ایجنسی (BRIN) کے مطابق ملک میں پام آئل کے صنعتی فضلے سے بائیو گیس تیار کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ماحول دوست توانائی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک کے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ انڈونیشیا جو کہ دنیا میں پام آئل کے بڑے پروڈیوسرز میں شمار ہوتا ہے، اس فضلہ جات کو توانائی میں بدل کر روایتی ایندھن پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ ایجنسی کے محققین کا کہنا ہے کہ پام آئل ملنے والے فضلے (Effluent) سے گیس بنانے کے منصوبے ملک کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا ایک بہترین اور سستا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے نفاذ سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بین الاقوامی ماحولیاتی اہداف کے عین مطابق ہے۔ حکومت اس شعبے میں مزید تحقیق اور ترقی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے تاکہ اس صلاحیت کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر مناسب حکمت عملی اور سرمایہ کاری کی جائے تو انڈونیشیا خطے میں بائیو گیس کی پیداوار کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ زرعی فضلے سے زیادہ سے زیادہ معاشی فائدہ بھی حاصل کیا جا سکے گا۔