Technology
مেইন ریاست میں دیہی صحت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال
مেইন ریاست میں دیہی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی فنڈنگ کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ طبی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
امریکہ کی ریاست مেইন میں دیہی علاقوں کے مکینوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک نئے اور جدید طریقۂ کار پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ روایتی طبی نظام دیہی علاقوں کے تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، اس لیے اب جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) سے مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے وفاقی فنڈنگ کے حصول کے لیے ایک باضابطہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس کا مقصد دیہی صحت کے ڈھانچے کو جدید خط استوار پر استوار کرنا ہے۔
تجویز کے مطابق، واٹرویل میں واقع ناردرن لائٹ ان لینڈ ہسپتال سمیت مختلف طبی مراکز اس منصوبے کا مرکزی حصہ ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کی تشخیص، علاج معالجے کے عمل اور طبی ڈیٹا کے تجزیے کو تیز اور زیادہ درست بنانا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈاکٹروں کو دور دراز علاقوں میں بیٹھے مریضوں کی بروقت مانیٹرنگ کرنے میں مدد ملے گی، جس سے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی اور طبی عملے پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہوگا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس منصوبے کو کامیابی کے ساتھ نافذ کر لیا گیا تو یہ ریاست بھر کے دیہی ہسپتالوں کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف طبی اخراجات میں کمی لائی جا سکے گی بلکہ صحت کی بنیادی سہولیات ہر خاص و عام تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکیں گی۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس فنڈنگ کے حصول کے لیے پرامید ہیں تاکہ جلد از جلد زمینی سطح پر اس منصوبے کا آغاز کیا جا سکے اور دیہی آبادی کے مسائل کو کم کیا جا سکے۔