Technology
برطانیہ میں ٹیک ویزا درخواستیں کم، ماہرین کی تشویش
برطانیہ میں ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کی جانب سے ٹیک ویزا کے لیے درخواست دینے کے رجحان میں مسلسل تیسرے سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے عالمی ٹیک دوڑ میں برتری کے دعووں کے باوجود ورکرز ویزا کی تعداد میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔
برطانیہ کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کی قلت کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ ٹیک ویزا کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد میں مسلسل تیسرے سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار میں ویزا کی درخواستوں میں سات فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب برطانوی وزراء عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ملک کی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور اسے نمایاں مقام دلانے کے دعوے کر رہے ہیں، اس شعبے میں افرادی قوت کا سکڑنا حکومتی دعووں کے برعکس ایک الگ تصویر پیش کر رہا ہے۔ ٹیک انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے ہنر مند افراد کی آمد میں کمی کی وجہ سے مقامی کمپنیوں کو انتہائی اہمیت کے حامل پراجیکٹس کے لیے ماہرین کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ویزا قوانین میں سختی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی سطح پر مسابقت کو اس صورتحال کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو برطانیہ کی ٹیک انڈسٹری کی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت اور صنعت سے وابستہ رہنماؤں کے درمیان اس مسئلے پر تشویش پائی جاتی ہے، اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک میں ہنر مند افرادی قوت کو راغب کرنے کے لیے موثر پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ برطانوی معیشت کو ڈیجیٹل دور میں درپیش چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔