AI
مصنوعی ذہانت کی ملازمتیں اور خواتین کا بڑھتا ہوا خلا
لنکڈ ان کی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایگزیکٹو عہدوں پر خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے۔ دنیا بھر میں اے آئی کی منافع بخش ملازمتیں تیزی سے مردوں کے قبضے میں جارہی ہیں جس سے صنفی تفاوت بڑھ رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی اور اس سے وابستہ منافع بخش ملازمتیں دنیا بھر میں خواتین کو پیچھے چھوڑتی جا رہی ہیں۔ لنکڈ ان کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے پس منظر رکھنے والی خواتین نے اس شعبے میں صرف 13 فیصد ایگزیکٹو پوزیشنز حاصل کیں، جبکہ غیر اے آئی شعبوں میں یہ تناسب تقریباً 19 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر، مصنوعی ذہانت کے مجموعی ورک فورس میں بھی خواتین کی تعداد صرف 27 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید اور انقلابی دور میں بھی صنف کی بنیاد پر مواقع کی فراہمی میں گہرا فرق پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں معیشت کا رخ بدل رہی ہے اور اس شعبے میں ملازمتوں کے مواقع بے تحاشا بڑھ رہے ہیں، لیکن خواتین کے لیے ان اعلیٰ عہدوں تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ خواتین کو بھی اے آئی کی اس دوڑ میں برابر کے مواقع مل سکیں۔ کارپوریٹ دنیا میں پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تنخواہوں کے ڈھانچے اور ملازمت کی ترقی کے عمل میں شفافیت لائیں تاکہ صنفی امتیاز کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ بصورت دیگر، مستقبل کی سب سے طاقتور معیشت میں خواتین کا کردار انتہائی محدود ہو جانے کا خدشہ ہے۔