World
برطانیہ میں مہنگائی میں اضافہ، شرح چار ماہ کی بلند ترین سطح پر
برطانیہ میں جولائی کے دوران مہنگائی کی شرح میں دو اعشاریہ نو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ چار ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔ چانسلر جان ہیلی کے مطابق ایران جنگ کے اثرات اب برطانوی شہریوں کے گھروں تک پہنچ رہے ہیں۔
برطانیہ میں معاشی دباؤ میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں توانائی کے بلوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں دو اعشاریہ نو فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین پہلے ہی اس طرح کے اضافے کی توقع کر رہے تھے، تاہم عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے کیونکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء اور توانائی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی چانسلر جان ہیلی نے پارلیمنٹ اور میڈیا کو بتایا ہے کہ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی تنازعات، بالخصوص ایران کی جنگ، برطانوی معیشت اور گھریلو مارکیٹ کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہوئی ہے اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات اب برطانیہ کے اندر عام صارفین کے گھروں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور معاشی تجزیہ کاروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرے۔ عوام پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات اور یوٹیلیٹی بلز کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور مزید مہنگائی ان کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں بین الاقوامی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کا رجحان ہی طے کرے گا کہ برطانیہ میں مہنگائی کی یہ لہر کہاں تک جاتی ہے اور حکومت اس سے نمٹنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔