World
لیبیا بجلی بحران: طویل بندش اور کرپشن کے خلاف عوامی احتجاج
لیبیا میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش کے خلاف شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے، جس سے ملک کے بوسیدہ گرڈ سسٹم اور کرپشن کے مسائل کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری طور پر بجلی کے بحران کو حل کرنے اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
لیبیا کے مختلف شہروں میں بجلی کی شدید اور طویل بندش کے خلاف عوام کا صبر جواب دے گیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد اور پرامن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بجلی کے اس سنگین بحران کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ لیبیا کا پاور گرڈ سالوں کی جنگ، عدم استحکام اور بدانتظامی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو روزانہ گھنٹوں بجلی کے بغیر رہنا پڑتا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہونے کے باوجود عام شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عوام نے حکومتی اداروں میں پھیلی ہوئی بدعنوانی اور فنڈز کی خردبرد کو اس بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے گرڈ سسٹم کی مرمت اور اپ گریڈیشن پر توجہ نہیں دی گئی، جس کا خمیازہ اب عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ گرمی کے اس موسم میں بجلی کی بندش نے اسپتالوں، اسکولوں اور روزمرہ زندگی کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
دوسری جانب، متعلقہ حکام نے عوام کے ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاور سیکٹر کو بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تعاون اور نجی شراکت داری کے ذریعے گرڈ سسٹم کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، عوامی حلقوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس طرح کے عارضی حل سے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔