LIVE
Loading Breaking News...

مستقبل کا کیریئر اور تعلیم: نئی رپورٹ کے اہم انکشافات

News Image
موجودہ نظام تعلیم مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ کینیڈا کی ایک نئی سروے رپورٹ کے مطابق جاب مارکیٹ میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں جنہیں والدین سمجھنے کی کوشش کر रहे ہیں۔
ٹورانٹو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کینیڈا کے ڈیجیٹل ایجوکیشن سیونگز اینڈ پلاننگ کے ایک نئے سروے نے والدین اور تعلیمی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں رائج موجودہ روایتی تعلیمی نظام بچوں کو مستقبل کے چیلنجز اور جدید کیریئر کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے میں بڑی حد تک ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلیاں اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کا جاب مارکیٹ پر بڑھتا ہوا اثر ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی دنیا بھر کی لیبر مارکیٹ کو اتنی تیزی سے تبدیل کر رہی ہے کہ والدین اور طلبا کے لیے اس کا اندازہ لگانا اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اگلے دو دہائیوں کے دوران کیریئر کے روایتی راستے یا تو ختم ہو جائیں گے یا ان کی شکلیں یکسر بدل جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کا موجودہ نصاب جدید صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہے، جس کی وجہ سے گریجویشن کے بعد نوجوانوں کو عملی میدان میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سروے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو اب روایتی رٹنے کے نظام سے ہٹ کر تخلیقی صلاحیتوں، تکنیکی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت (پراblem سالونگ) پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر وقت رہتے تعلیمی نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو نئی نسل آنے والے معاشی اور پیشہ ورانہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ ماہرین نے حکومتوں اور تعلیمی ماہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور نصاب میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔