LIVE
Loading Breaking News...

انٹیکیتھرا کا تاریخی ملبہ اور غوطہ خوروں کی قربانیاں

News Image
یونانی جزیرے انٹیکیتھرا کے قریب قدیم رومی دور کے تاریخی سمندری ملبے کی کھدائی کے دوران ایک غوطہ خور جاں بحق اور دو معذور ہو گئے۔ اس مقام سے صدیوں کے دوران قیمتی نوادرات، ماربل کے سر اور قدیم کمپیوٹر دریافت ہو چکا ہے۔
یونانی جزیرے انٹیکیتھرا کے ساحلوں کے قریب واقع ایک قدیم رومی دور کے سمندری ملبے کی کھدائی کی تاریخ قربانیوں اور سنسنی خیز دریافتوں سے بھری ہوئی ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب اس تاریخی مقام پر غوطہ خوروں نے کام کا آغاز کیا تو وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ یہ سفر کتنی انسانی قیمت مانگے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس طویل اور خطرناک مہم کے دوران جارجیوس کریٹیکوس نامی غوطہ خور ڈی کمپریشن سکنسی کی بیماری کی وجہ سے لقمہ اجل بن گیا جبکہ اس کے دو ساتھی غوطہ خور ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو گئے۔ اس کے باوجود اس مقام کی کشش کم نہ ہوئی اور آنے والے برسوں میں ماہرین اور غوطہ خور وہاں مسلسل جاتے رہے۔ اس خطرناک مقام سے گزرتے وقت میں غوطہ خوروں نے تاریخی نوادرات کو باہر نکالا جن میں ماربل کے خوبصورت سر، انسانی دانت اور انسانی باقیات کے ساتھ ساتھ کئی اہم چیزیں شامل ہیں۔ ان تمام کوششوں کا مقصد تاریخ کے ان رازوں سے پردہ اٹھانا تھا جو سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں صدیوں سے دفن تھے۔ انٹیکیتھرا کے اس مقام سے ملنے والی اشیاء نے دنیا بھر کے ماہرینِ آثار قدیمہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ سن 1901 میں اس مقام سے ایک ایسا معمہ حل ہوا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ سپنج کا شکار کرنے والے غوطہ خوروں نے اس تاریخی ملبے سے ایک زنگ آلود کانسی کا ٹکڑا نکالا جو بعد میں ایک انتہائی پیچیدہ مکینیکل کمپیوٹر ثابت ہوا۔ اندازہ لگایا گیا کہ اس مشین کو قبل مسیح کی پہلی صدی میں تیار کیا گیا تھا اور اس میں تیس سے زائد باریک کٹے ہوئے گئیر موجود تھے۔ اس حیرت انگیز آلے کو سورج گرہن اور سیاروں کی گردش کی پیشگوئی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جس نے قدیم یونانی ٹیکنالوجی کے بارے میں انسانی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ دریافت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگرچہ اس مقام کی کھدائی نے انسانی جانوں کی بھاری قیمت وصول کی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں ملنے والے تاریخی حقائق نے انسانی تہذیب کے مطالعے میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔