LIVE
Loading Breaking News...

ڈیموکریٹس اور نوجوان مردوں کی سیاست: حسن پائکر کا کردار

News Image
تجزیہ کار لِز پیک کے مطابق معروف تبصرہ نگار حسن پائکر کی جانب سے ڈیموکریٹس کی حمایت نے پارٹی کی اندرونی سیاسی بے چینی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹس اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح نوجوان ووٹرز اور خاص طور پر نوجوان مردوں کو دوبارہ اپنی طرف مائل کیا جائے۔
امریکہ کی سیاسی فضا میں اس وقت ایک نیا طوفان برپا ہے جہاں ڈیموکریٹک پارٹی نوجوان مردوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے شدید تگ و دو کر رہی ہے۔ معروف تجزیہ کار لِز پیک نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے مشہور تبصرہ نگار اور خود ساختہ مارکسی حسن پائکر کو ڈیموکریٹس کی جانب سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان طبقے بالخصوص نوجوان مردوں میں پارٹی کی کھوئی ہوئی مقبولیت کو بحال کیا جا سکے۔ لِز پیک کا کہنا ہے کہ حسن پائکر کی جانب سے دی جانے والی کمنٹری اکثر امریکہ مخالف اور تلخ ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود ڈیموکریٹک قیادت ان کی رسائی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہی۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پارٹی کو نوجوان ووٹرز کی سطح پر شدید تشویش لاحق ہے۔ نوجوان مردوں کا طبقہ روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی سے دور ہوتا جا رہا ہے اور حالیہ برسوں میں اس رجحان میں مزید تیزی دیکھی گئی ہے۔ ریپبلکن پارٹی نے اس خلا کو محسوس کرتے ہوئے پوڈکاسٹس اور متبادل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان مردوں میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں۔ اس سیاسی منظر نامے میں، ڈیموکریٹس کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ روایتی انتخابی حربوں سے ہٹ کر ڈیجیٹل انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کریں۔ حسن پائکر جیسے مقبول ڈیجیٹل چہروں کی تائید یا ان کے ساتھ میل جول کو اسی مایوسی اور اضطراب کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے جو ڈیموکریٹک اسٹریٹجسٹس پر طاری ہے۔ تاہم، اس حکمت عملی کے سیاسی نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اعتدال پسند اور روایتی ووٹرز اس قسم کے بنیاد پرست عناصر کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ڈیموکریٹس خود کو معتدل اور عوام دوست ظاہر کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ ایسے شخص کو پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ اس تضاد نے سیاسی مبصرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ طریقہ کار الیکشن میں واقعی فائدہ مند ثابت ہوگا یا اس سے پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی متاثر ہو گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ڈیموکریٹک پارٹی نوجوان مردوں کے اس بڑے ووটার بلاک کو اپنی طرف کھینچنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ کن مزید شخصیات کا سہارا لیتی ہے۔